بدھ 23 ستمبر 2026 - 23:41
جموں میں عظیم الشان رحمت عالم کانفرنس: سیرتِ رسول کے آفاقی پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا ناگزیر، مقررین

حوزہ/شیعہ فیڈریشن صوبۂ جموں ہندوستان کے زیرِ اہتمام ٹاؤن ہال پونچھ میں ایک عظیم الشان رحمتِ عالم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء و ذاکرین، دانشوران، سماجی و مذہبی شخصیات، معزز شہریوں، نوجوانوں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،شیعہ فیڈریشن صوبۂ جموں ہندوستان کے زیرِ اہتمام ٹاؤن ہال پونچھ میں ایک عظیم الشان رحمتِ عالم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء و ذاکرین، دانشوران، سماجی و مذہبی شخصیات، معزز شہریوں، نوجوانوں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جموں میں عظیم الشان رحمت عالم کانفرنس:سیرتِ رسول کے آفاقی پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا ناگزیر، مقررین

کانفرنس کا بنیادی مقصد رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ، عالمگیر پیغامِ رحمت، امن، محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کو عام کرنا تھا۔

قرآنِ مجید کی آیتِ مبارکہ ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ ’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔‘‘ کو کانفرنس کا مرکزی پیغام قرار دیا گیا۔

کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اسے کسی ایک مذہب، مسلک یا طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے بلا تفریقِ مذہب و ملت انسانیت، امن، محبت اور باہمی احترام کے فروغ کا ذریعہ بنایا گیا۔

جموں میں عظیم الشان رحمت عالم کانفرنس:سیرتِ رسول کے آفاقی پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا ناگزیر، مقررین

اس موقع پر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ آج کی دنیا جنگ، نفرت، عدم برداشت، ناانصافی اور مختلف النوع اختلافات کا شکار ہے، ایسے حالات میں سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالمگیر پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مقررین نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت محض ایک تاریخی موضوع نہیں بلکہ امن، عدل، انسانیت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کا عملی منشور ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عملی رہنمائی کا ذریعہ بنائیں۔

جموں میں عظیم الشان رحمت عالم کانفرنس:سیرتِ رسول کے آفاقی پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا ناگزیر، مقررین

رحمتِ عالم کانفرنس کا ایک اہم اور قابلِ تحسین پہلو NEET، UPSC اور دیگر شعبہ ہائے تعلیم میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی اور اعزازی تقریب تھا۔

طلبہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ نوجوان نسل کو تعلیم، تحقیق، محنت، نظم و ضبط اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایسے اعزازات نوجوانوں کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور انہیں مستقبل میں مزید محنت اور نمایاں کامیابیوں کے لیے تحریک فراہم کرتے ہیں۔

اس موقع پر مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری کی کتاب’’شہید رہبر اور وحدتِ اسلامی‘‘ کی رونمائی بھی عمل میں آئی۔

اس موقع پر کتاب کے فکری و علمی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تصنیف میں وحدتِ اسلامی، اتحادِ امت، عصرِ حاضر میں مسلمانوں کے باہمی روابط، فکری شعور اور اجتماعی مسائل جیسے اہم موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

کتاب میں وحدتِ اسلامی کو محض ایک نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری، اجتماعی اور عملی ضرورت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلسطین، قدس، امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد اور مسلم معاشروں کو درپیش عصرِ حاضر کے چیلنجز کے تناظر میں بھی مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے۔

جموں میں عظیم الشان رحمت عالم کانفرنس:سیرتِ رسول کے آفاقی پیغامِ رحمت کو اجتماعی زندگی میں اجاگر کرنا ناگزیر، مقررین

کانفرنس کے مجموعی پیغام میں سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وحدتِ اسلامی، فکری شعور، تعلیم، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور انسانی اخوت کو باہم مربوط کیا گیا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پونچھ کی سرزمین سے ایسا مثبت پیغام بلند ہونا چاہیے جو مذہب و مسلک کی تفریق سے بالاتر ہو کر معاشرے میں محبت، امن، اتحاد، رواداری، تعلیم اور انسانیت کو فروغ دے۔

تقریب میں شریک علماء، دانشوروں، سماجی و مذہبی شخصیات اور عوام نے شیعہ فیڈریشن صوبۂ جموں کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اس نوعیت کی علمی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha